14 جون 2015 - 10:03
صدر روحانی کی ملکی اور غیر ملکی صحافیوں سے اہم پریس کانفرنس

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ہفتہ کے روز 13 جولائی کو ایران کے دارالحکومت تہران ميں ڈھائی سو سے زائد ملکی اور غير ملکی صحافيوں کی موجودگی ميں ایک اہم پريس کانفرنس کی.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ہفتہ کے روز 13 جولائی کو ایران کے دارالحکومت تہران ميں ڈھائی سو سے زائد ملکی اور غير ملکی صحافيوں کی موجودگی ميں ایک اہم پريس کانفرنس کی.

صدارتي ويب سائٹ کے مطابق صدر حسن روحانی نے پريس کانفرنس ميں کہا کہ اگر مدمقابل فريق افزون طلبي اور تسلط پسندي سے باز آئے، تو حتمي سمجھوتے تک رسائي جلد ممکن ہے اور ايران، اپنے دفاعي اور فوجي مراکز کے معاينے کي اجازت نہيں دے گا.
صدر مملکت نے پريس کانفرنس کے آغاز ميں امام خميني (رہ) اور شہداء کو زبردست خراج تحسين پيش کيا اور ماہ رمضان المبارک کي آمد کي مناسبت سے پوري قوم کو مبارکباد پيش کي.
انہوں نے کہا کہ رمضان، دوستي اور اخوت اور بھائي چارے کا مہينہ ہے، ہميں چاہيے کہ اس بابرکت مہينے ميں آپس کي کدورتيں اور نفرتيں ختم کرکے دلوں ميں ايک دوسرے کے ليے پيار اور محبت کا جذبہ پيدا کريں.
صدر مملکت نے کہا کہ صدارتي انتخابات کے دوران ہم نے معاشي ترقي، معاشرے ميں اخلاقي اقدار کا احياء اور ديگر ملکوں کے ساتھ تعميري تعلقات استوار رکھنے کے وعدے کئے تھےاور آج ہم انہي وعدوں کو نبھانے کي کوششيں کر رہے ہيں.
انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ جب ہميں احساس ہوا کہ عالمي سطح پر ہمارے حقوق پامال ہو رہے ہيں تو ہم نے رہبر انقلاب اسلامي اور ايراني قوم کي حمايت سے مذاکرات شروع کيے اور وزير خارجہ جواد ظريف کي سربراہي ميں ايک پختہ اور تجربہ کار ٹيم مذاکرات کے ليے روانہ کردي، جواس وقت ايراني قوم سے زبردستي چھينے گئے حقوق کي بازيابي کے ليے سرتوڑ کوششوں ميں سرگرمِ عمل ہے.
صدر مملکت نے ايک صحافي کے اس سوال کے جواب ميں کہ "اسلامي جمہوريہ ايران" کب تک مذاکرات جاري رکھنا چاہتا ہے" کہا کہ ايران چھينے گئے حقوق کي بازيابي تک مذاکرات جاري رکھنا چاہتا ہے، تاہم اگر ہميں اندازہ ہوا کہ مذاکرات جاري رکھنے سے عالمي سطح پر ايران کي عزت و آبرو پامال ہو رہي ہے، تو ہم فورا مذاکراتي عمل ترک کر ديں گے.
انہوں نے کہا کہ في الحال فريم ورک پر دونوں فريق متفق ہيں، البتہ جزئيات ميں ابھي بھي دونوں فريقوں کے مواقف ميں کافي اختلاف پايا جاتا ہے، جيسا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ايران کے خلاف عائد تمام تر پابنديوں کو ايک ساتھ اٹھانا چاہيے. بہرحال اگر مدمقابل فريق افزون طلبي اور تسلط پسندي سے باز آئے تو بہت جلد ان تمام اختلافي ايشوز کا حل اور حتمي سمجھوتے تک رسائي ممکن ہے.
صدر حسن روحاني نے مذاکرات کے طولاني ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ مدمقابل فريق، طے شدہ معاہدوں کي خلاف ورزي کر رہا ہے اور اپنے موقف سے پيچھے ہٹ رہا ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲